خلوت (Solitude)
خلوت (Solitude)
نامور سائنسدان نیکولا ٹیسلا ساری زندگی اکیلے رہے۔ خلوت (solitude)انکی اپنی چوائس تھی لیکن ان کے متعلق مشہور ہے کہ انکی موت بہت ٹریجک تھی اور وہ بہت ہی تنہا اور اکیلے انسان تھے۔ میرا ماننا اس کے برعکس ہے۔ تنہائی اور خلوت میں فرق ہے، خلوت آپکی چوائس ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ فلسفی، بڑے لیڈر اور روحانی استاد خلوت میں خود کو اور دنیا کی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ محمدﷺ بھی غارِ حرا میں خلوت میں غوروفکر فرماتے تھے۔
ہمارے تنگ نظر ذہن اور محدود تجربے کے مطابق وہ شخص جو ایک درجن بچے نہ پیدا کر لے، جسکا پورا خاندان اس کے سر پر سوار نہ رہتا ہو، اور دوستوں کی لمبی فہرست اور جائیداد جمع کرنے کی دوڑ میں مبتلا نہ ہو وہ تنہا اور سنکی کہلاتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ انسان ایک سوشل اسپیشی ہے اور لوگوں سے میل جول یقیناً ہماری ضرورت ہے لیکن ہمیں اپنی پرسنل گروتھ اور سیلف-ریفلیکشن کے لیے ایک اسپیس چاہیے ہوتی ہے۔ اسپیس محض فزیکل نہیں بلکہ مینٹل اسپیس۔ ہمارے مڈل کلاس طبقے میں نہ ہی کسی فزیکل اسپیس کا تصور اور نہ ہی مینٹل۔
بلاوجہ بلا مقصد بولنے والے کو پراعتماد اور کم گو کو مغرور کہنا عام ہے۔
خلوت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان وقت گزاری کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرتا، وہ لوگ جنہیں ہر وقت کوئی نہ کوئی باتیں کرنے یا وقت گزارنے کے لیے درکار ہوتا ہے اکثر دماغی طور پر ڈسٹرب رہتے ہیں اور تنہائی جو کہ ہماری زندگی کا حصہ ہے اس سے بھاگتے رہتے ہیں۔ لیکن ہم اس سے بھاگ نہیں سکتے البتہ ہم اسے اپنی گروتھ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ بقول پکاسو کے “کوئی بھی سنجیدہ کام بنا خلوت میں وقت گزارے انجام نہیں پاسکتا”۔ خلوت کو اگر مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو کرئیٹوٹی(creativity)اجاگر ہوتی ہے۔
لوگ اکثر نیکولا ٹیسلا کا تھامس ایڈیسن سے موازنہ کرکے کہتے ہیں کہ ایڈیسن زیادہ کامیاب تھا، لیکن اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ایڈیسن آدھا درجن بچے، ایک ہمسفر، اور اتنی بڑی کمپنی کے بوجھ تلے، خلوت میں رہ رہے کریٹوٹی کے بادشاہ نیکولا سے زیادہ خوش اور مطمئن تھا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں